Girl was standing alone at 3am.

ایک آدمی رات کے تین بچے ہائی وے پر سفر کر رہا تھا کہ اس کی نظر ایک بوڑھی عورت پر پڑی۔ وہ بیچاری سڑک کے کنارے اپنی گاڑی میں بیٹھی تھی۔ وہ سمجھ گیا کہ اس کی گاڑی خراب ہو گئی ہو گی۔ رات کا ایسا پہر تھا اور ہائی وے کے دونوں طرف گھنا جنگل تھا۔

وہ پریشان ہو گیا اور سوچا کہ اگر اس نے بوڑھی عورت کی مدد نہیں کی تو اس پر کوئی جنگلی جانور بھی حملہ آور ہو سکتا تھا۔ اس نے اپنی گاڑی ایک طرف پارک کی اور اتر کر اس عورت کی گاڑی کے پاس چلا گیا۔ عورت اسے دیکھ کر گھبرا گئی اور بولی کہ کیا چاہتے ہو؟ اسے لگا کہ شاید یہ میرے پیسے چھینے گا یا مجھ سے کوئی قیمتی چیز چرائے گا۔ وہ شخص سمجھ گیا کہ وہ

کہ وہ عورت اس پر شک کر رہی تھی۔ وہ گیا اور جا کر اپنی گاڑی سے سٹیپنی نکال لایا۔ اس نے اس بوڑھی عورت کی گاڑی کے قریب آکر بولا کہ میڈم پلیز پریشان نہ ہوں
میں صرف آپ کا نیا ٹائر لگا رہا ہوں۔ اس نے سٹیپنی گاڑی کے نیچے سیٹ کی اور گاڑی کو اونچا کرنے لگا۔ کافی مشکل سے اس نے پچھلا ٹائر اتارا اور نیا ٹائر لگا دیا۔ اس کے نٹس کسنے میں اس آدمی کو بہت طاقت لگانی پڑی۔

اتنے میں پہلی بار اس بوڑھی عورت نے گاڑی کا شیشہ نیچے کیا اور بولی کہ بیٹا آپ کا بہت شکریہ اگر ابھی آپ میری مدد کو نہ رکتے تو اللہ جانے کیا ہو تا؟آدمی نے آخری نٹ ٹھیک سے ٹائٹ کیا اور اس کو تسلی دی کہ اب وہ جا سکتی ہے۔ اس نے پوچھا کہ اپنا نام تو بتاتے جاؤ، میں دعاؤں میں یاد رکھوں گی۔

اس شخص نے بولا کہ میں ’مائیکل‘ ہوں۔ وہ آدمی اپنی گاڑی میں جا بیٹھا، بوڑھی عورت اس کی گاڑی کے پاس آئی اور اسے پیسے دینے کے لیے اپنا بٹوا پھرولنے لگی۔ آدمی نے بولا کہ بہت شکریہ مجھے آپ کے پیسے نہیں چاہیے تھے۔ اور خدا حافظ کہہ کر چلتا بنا۔ وہ عورت گاڑی تھوڑا آگے لے کر گئی تو ایک مو ٹل آگیا۔ وہ اندر گئی اور ویٹرس کو آرڈر دیا۔ اس نے دیکھا تو ویٹرس امید سے تھی اور لگتا تھا کہ اس کا آٹھواں ماہ چل رہا تھا۔

اس نے ویٹرس کو مسکرا کر دیکھا کیونکہ وہ سوچ رہی تھی کہ اس بیچاری کی ضرور کوئی مجبوری ہی ہوگی تو یہ اس حالت میں بھی کام کر رہی ہے۔ اس بوڑھی عورت کو رہ رہ کر پنے محسن کا خیال آرہا تھا کہ اس نے اتنی نیکی کی اور کچھ بھی نہ مانگا۔ جب اس نے کھانا کھا لیا تو ویٹرس بل ٹیبل پر دھر کر چلی گئی۔ بوڑھی عورت نے اتنے پیسے رکھے کہ اس میں پورے سو ڈالر اصلی بل کی رقم سے اوپر تھے ۔

ویٹرس آئی اور بل اٹھا کر لے گئی۔ وہ چینج لے کر واپس آئی تو دیکھا کہ بوڑھی عورت جا چکی تھی اور ٹیبل پر ایک نوٹ رکھا تھا جس پر لکھا تھا کہ آج میرے ساتھ کسی نے بہت بڑی نیکی کی تھی۔ بس سمجھو کہ میں وہی نیکی تمہیں لوٹا رہی ہوں۔ یہ سو ڈالر تمہاری ٹپ ہیں۔ وہ لڑکی بہت خوش ہوئی اور اپنے گھر کی طرف نکل پڑی۔

اس نے گھر جا کر اپنے سوئے ہوئے شوہر کو گال پر کس کیا اور سوچا کہ خدا بھی کتنا مہربان ہے کہ عین جس وقت اس کو پیسوں کی ضرورت پڑی تو اس نے بندوبست کر دیا۔ وہ جانتی تھی کہ ایک ماہ بعد اسے ان پیسوں کی ضرورت ڈیلیوری کے لیے پڑنی تھی۔ اسے نجانے کیوں اپنے خاوند پر بہت پیار آرہا تھا۔ اس نے دھیمے سے بولا : شب بخیر مائیکل! اور سو گئی۔

انڈین لیجنڈ
اپنے کیریئر کے عروج پر میں ایک مرتبہ جہاز پر سفر کر رہا تھا‘ میرے ساتھ والی سیٹ پر ایک بزرگ بیٹھے تھے‘ سادہ سی شرٹ اور پینٹ میں ملبوس تھے‘وہ تعلیم یافتہ لیکن مڈل کلاس لگتے تھے‘مسافر مجھے دیکھ رہے تھے لیکن اس شخص نے میری زیادہ پرواہ نہیں کی‘ اس نے اپنا اخبار پڑھااور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگے‘ بزرگ نے انتہائی سکون اور اطمینان سے چائے پی‘ میں نے ان سے بات کرنے کیلئے ان کی طرف مسکرا کر دیکھا‘بزرگ نے مہذب انداز میں مسکراہٹ کا جواب مسکراہٹ سے دیا اور مجھے ہیلو کہا۔

ہم نے گفتگو شروع کردی اور میں نے ان سے پوچھ لیا ’’ کیا آپ فلمیں دیکھتے ہیں‘‘ انہوں نے جواب دیا’’جی چند ایک دیکھی ہیں‘ آخری فلم کافی سال پہلے دیکھی تھی‘‘ میں نے کہا‘ میں فلموں میں کام کرتا ہوں‘ بزرگ نے جواب دیا ’’ بہت اچھا‘آپ کیا کرتے ہیں‘‘ میں نے جواب دیا‘ میں ایکٹر ہوں‘ انہوں نے جواب میں ’’اوہ! زبردست ‘‘ کہا اور خاموش ہو گئے‘ جب ہم نے لینڈ کیا تو میں نے ان سے ہاتھ ملایااور کہا کہ آپ کے ساتھ سفر کر کے اچھا لگا۔

بزرگ نے ہاتھ ملاتے ہوئے ہوئے جواب دیا ’’بہت شکریہ‘ میں جے آر ڈی ٹاٹاہوں‘‘ (جے آرڈی ٹاٹا انڈیا کے ارب پتی بزنس مین )۔ میں نے ٹاٹا صاحب سے ایک بات سیکھی‘ آپ خواہ کتنے بھی بڑے ہوں دنیا میں آپ سے بڑے لوگ موجود ہوتے ہیں‘ ہمیشہ عاجز رہیں ‘ یہ عاجزی آپ کو بلندی عطا کرے گی۔

Comments are closed.

Open

%d bloggers like this: