یہ چیز کھائیں اور 4 گھنٹے بعد کمال دیکھیں۔۔ کرنٹ کی طرح اثر کرنے ولا نسخہ ۔۔ آپ کی زندگی ہی بدل جائے گی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)ڈرائی فروٹ بہت صحت بخش غذا تصور کی جاتی ہے کیونکہ یہ غذائیت سے بھرپور ہوتے ہیں ، ان میں وٹامن ای،گڈ فیٹس اور اینٹی اوکسیڈینٹ وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔

اگر آپ روزانہ 5 اخروٹ اپنی غذا میں شامل کرلیں تو اس کے فوائد سے آپ بھی حیران رہ جائیں گے۔ روزانہ 5 اخروٹ کھانے سے آپ کو کیا کیا فائدے حاصل ہوسکتے ہیں؟

٭ اس سے کولیسٹرول کنٹرول میں رہتا ہے

٭ دماغی صحت کو بہتر بناتا ہے

٭ دل کےامراض سے بچاتا ہے

٭ ذیابطیس کا خطرہ ٹال دیتا ہے

٭ بال، جلد اور ناخن کےلیے بےحد مفید ہے

٭ کینسر سے بچاتا ہے

پانچ اخروٹ کھانے کے 4 گھنٹے بعد دیکھیں کمال اخروٹ اپنا اثر بہت جلد دیکھاتا ہے ۔ اگر آپ پانچ خروٹ کھائیں گے تو 4 گھنٹے بعد ہی اخروٹ اپنی کمالات دیکھانے شروع کردے گا، پانچ اخروٹ کھانے کے بعد آپ کے جسم کو غذائیت اور وٹامنز ملنا شروع ہوجائیں گےاور ان وٹامنز کے ذریعے آپ بہت فریش محسوس کریں گے۔ اخروٹ کے ذریعے آپ اپنا ذہنی دباؤ بھی ختم کرسکتے ہیں چونکہ اخروٹ میں اینٹی اوکسیڈینٹ موجود ہوتے ہیں جوکہ آپ کے جسم میں موجود مختلف بیماریوں کے خلاف لڑتے ہیں جیسے دل کے امراض وغیرہ۔ اس کے علاوہ اس میں موجود اومیگا 3 فیٹی ایسیڈ کے ذریعے ذہنی دباؤ سے نجات ملتا ہے

سادہ زندگی گزارو

ایک آدمی بہت بڑی یونیورسٹی کا پروفیسر تھا. اس کے تمام سٹوڈنٹس بہت کامیاب اور کامران تھے.

اپنی زندگی بہت عالی شان طریقے سے گزار رہے تھے. ایک دن اس نے اپنے تمام سٹوڈنٹس کو ایک دعوت پر مدعو کیا. وہ سب اس میں بخوشی شریک ہوئے. سب شہر کے بڑے سے بڑے بزنس ٹائیکون بن چکے تھے یا کسی نہ کسی بہت بڑی ملٹائی نیشنل کے منیجر وغیرہ بن چکے تھے. تھوڑی دیر بات چیت کرنے کے بعد سب پھر اپنے روز کے ٹاپک پر آن پہنچے،

بزنس اور جابیں اور ان کے سٹریس. وہ آپس میں بات کر ہی رہے تھے کہ وقت نہیں بچتا، کتنے لوگوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے وغیرہ وغیرہ کہ ان کا پروفیسر اٹھا اور کچن سے کافی مگوں میں ڈال کر لے آیا. کچھ مگ بہت مہنگے تھے پورسلین کے تھے، کچھ کے تھے، کچھ کرسٹل کے تھے کچھ عام چینی کے کپ تھے.

اس نے سب آگے پیچھے مکس کر کے ایک ٹرے میں رکھ دیا تھا. جب سب کافی کی چسکیاں بھر رہے تھے، تو پروفیسر نے بولا کہ دیکھ لو عام والے کپ ابھی بھی ٹرے میں پڑے ہیں اور آپ سب نے پہلے پہلے اپنی پسند سے مہنگے کپس اٹھا لیے ہیں. حالانکہ سب میں ایک ہی طرح کی کافی ہے اور آپ کو صرف اس کافی کو پینے سے غرض ہونی چاہیے تھی نا کہ اس بات سے کہ کس کے پاس کونسا کپ ہے؟

اگر آپ تھوڑی سی غوروفکر کرو تو یہ بات آپ کو آرام سے سمجھ آجائے گی کہ آپ کی تمام پریشانیوں کی وجہ یہی ہے کہ آپ کو سب سے اچھا لائف سٹائل خریدنا ہے حالانکہ آپ اس بات سے بالکل انجان ہو کہ اچھے لائف سٹائل کا دراصل آپ کے دلی سکون سے کوئی لینا دینا نہیں ہے.

سکون کی نیند کس کو آتی ہے جس کو پتہ ہوتا ہے کہ اس سے لوگ پیار کرتے ہیں. صرف وہ بچہ گہری نیند سوتا ہے جس کی ماں اس سے رج کے پیار کرتی ہے اور وہ اس بات سے بخوبی واقف ہوتا ہے، اسے صبح کی روٹی نصیب نہ ہو، اس کی رات کی نیند حرام نہیں ہوگی لیکن جس کی زندگی میں پیار کی حرارت باقی نہ رہے اس کی آنکھوں سے نیند اڑ جاتی ہے اور میلوں کوسوں دور نکل جاتی ہے. آپ لوگوں کے جاب اور بزنس کے تمام مسائل آپ کی اپنی پیداوار ہیں.

آپ کے دماغ کی خرافات ہیں، کیا کوئی بھی جاب یا پیسہ اتنااہم ہو سکتا ہے کہ اس کی خاطر آپ اپنا دل و دماغ کا سکون داؤ پر لگانے کو تیار ہوں. لیکن آپ با لکل نہیں سوچتے بلکہ سب ایک مقابلے میں لگے ہوئے ہیں. ایک ریس ہے، سب دوڑ رہے ہیں، میں نے آ گے نکلنا ہے، نہیں میں نے آگے نکلنا ہے.

تو بس پھر لگے رہو کہ سب سے اچھا کافی کا کپ کس کے پاس ہے، بات تو ایک ہی ہے، کافی تو سب میں یکساں ہے اور اصل مزہ تو اسی کا ہے، اس کپ کی کیا حیثیت؟ اگر کوئی عقلمند ہو تو سادہ زنگی کو ترجیح دے گا، کوئی مقابلہ نہیں کرے گا، دل سے پیار محبت کی حرارت کو محسوس کرے گا، جب بولے گا اچھی بات کرے گا،

عموما تو بولنے کو کوئی فائدہ ہے ہی نہیں تو صرف تب بولو جب ضرورت ہو. اور اپنا سارا توکل خدا پر رکھو بس، کامیابی وہ نہیں جسے دنیا تسلیم کرے کامیابی وہ ہے جو تمہارے ضمیر کو ملامت نہ کرتی ہو. تمہیں تھکائے نہیں اور تم سے تمہارے دل کا سکون نہ چھین لے. ایک آدمی بہت بڑی یونیورسٹی کا پروفیسر تھا.

اس کے تمام سٹوڈنٹس بہت کامیاب اور کامران تھے. اپنی زندگی بہت عالی شان طریقے سے گزار رہے تھے. ایک دن اس نے اپنے تمام سٹوڈنٹس کو ایک دعوت پر مدعو کیا. وہ سب اس میں بخوشی شریک ہوئے. سب شہر کے بڑے سے بڑے بزنس ٹائیکون بن چکے تھے یا کسی نہ کسی بہت بڑی ملٹائی نیشنل کے منیجر وغیرہ بن چکے تھے. تھوڑی دیر بات چیت کرنے کے بعد سب پھر اپنے روز کے ٹاپک پر آن پہنچے،

بزنس اور جابیں اور ان کے سٹریس. وہ آپس میں بات کر ہی رہے تھے کہ وقت نہیں بچتا، کتنے لوگوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے وغیرہ وغیرہ کہ ان کا پروفیسر اٹھا اور کچن سے کافی مگوں میں ڈال کر لے آیا. کچھ مگ بہت مہنگے تھے پورسلین کے تھے، کچھ کے تھے، کچھ کرسٹل کے تھے کچھ عام چینی کے کپ تھے.

اس نے سب آگے پیچھے مکس کر کے ایک ٹرے میں رکھ دیا تھا. جب سب کافی کی چسکیاں بھر رہے تھے، تو پروفیسر نے بولا کہ دیکھ لو عام والے کپ ابھی بھی ٹرے میں پڑے ہیں اور آپ سب نے پہلے پہلے اپنی پسند سے مہنگے کپس اٹھا لیے ہیں. حالانکہ سب میں ایک ہی طرح کی کافی ہے اور آپ کو صرف اس کافی کو پینے سے غرض ہونی چاہیے تھی نا کہ اس بات سے کہ کس کے پاس کونسا کپ ہے؟

اگر آپ تھوڑی سی غوروفکر کرو تو یہ بات آپ کو آرام سے سمجھ آجائے گی کہ آپ کی تمام پریشانیوں کی وجہ یہی ہے کہ آپ کو سب سے اچھا لائف سٹائل خریدنا ہے حالانکہ آپ اس بات سے بالکل انجان ہو کہ اچھے لائف سٹائل کا دراصل آپ کے دلی سکون سے کوئی لینا دینا نہیں ہے. سکون کی نیند کس کو آتی ہے جس کو پتہ ہوتا ہے کہ اس سے لوگ پیار کرتے ہیں.

صرف وہ بچہ گہری نیند سوتا ہے جس کی ماں اس سے رج کے پیار کرتی ہے اور وہ اس بات سے بخوبی واقف ہوتا ہے، اسے صبح کی روٹی نصیب نہ ہو، اس کی رات کی نیند حرام نہیں ہوگی لیکن جس کی زندگی میں پیار کی حرارت باقی نہ رہے اس کی آنکھوں سے نیند اڑ جاتی ہے اور میلوں کوسوں دور نکل جاتی ہے. آپ لوگوں کے جاب اور بزنس کے تمام مسائل آپ کی اپنی پیداوار ہیں. آپ کے دماغ کی خرافات ہیں، کیا کوئی بھی جاب یا پیسہ اتنااہم ہو سکتا ہے کہ اس کی خاطر آپ اپنا دل و دماغ کا سکون داؤ پر لگانے کو تیار ہوں. لیکن آپ با لکل نہیں سوچتے بلکہ سب ایک مقابلے میں لگے ہوئے ہیں.

ایک ریس ہے، سب دوڑ رہے ہیں، میں نے آ گے نکلنا ہے، نہیں میں نے آگے نکلنا ہے. تو بس پھر لگے رہو کہ سب سے اچھا کافی کا کپ کس کے پاس ہے، بات تو ایک ہی ہے، کافی تو سب میں یکساں ہے اور اصل مزہ تو اسی کا ہے، اس کپ کی کیا حیثیت؟ اگر کوئی عقلمند ہو تو سادہ زنگی کو ترجیح دے گا، کوئی مقابلہ نہیں کرے گا، دل سے پیار محبت کی حرارت کو محسوس کرے گا، جب بولے گا اچھی بات کرے گا،

عموما تو بولنے کو کوئی فائدہ ہے ہی نہیں تو صرف تب بولو جب ضرورت ہو. اور اپنا سارا توکل خدا پر رکھو بس، کامیابی وہ نہیں جسے دنیا تسلیم کرے کامیابی وہ ہے جو تمہارے ضمیر کو ملامت نہ کرتی ہو. تمہیں تھکائے نہیں اور تم سے تمہارے دل کا سکون نہ چھین لے.

Comments are closed.

Open

%d bloggers like this: