معصوم بچیوں سے زیادتی ، ویڈیوز بنانے والے ملزموں کی رہائی ، اہل خانہ کو سنگین دھمکیاں

لاہور (ویب ڈیسک) قصور میں 2 سال قبل سکول و کالجز کی طلباءسے مبینہ طور پرجنسی ہراساں کرنے کی ویڈیو بنانے کے خوف ناک سکینڈل میں گرفتار ملزمان کی ضمانتوں پر رہائی پر 10 مختلف خاندانوں کی جانب سے حصول انصاف میں رکاوٹیں پیدا ہونے اور حکومت کی جانب سے داد رسی نہ کرنے ملزمان کی جانب سے سنگین نتائج کی دھمکیوں اور ڈی پی او سمیت ایس ایچ او گنڈا سنگھ کی طرف سے داد رسی نہ کرنے پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا

کہ اگر انہیں انصاف میسر نہ ہو ا تو آئندہ سو موار کو پنجاب اسمبلی کے سامنے اجتماعی خود سوزی کی دھمکی دی ہے، قصور کے نواحی علاقہ یونین کو نسل 32 کے چیئرمین مبین غزنوی ، متاثرہ خاندان کے محمد اکرم ، عید محم، محمد مشتاق، محمد اصغر ، اعجاز احمد اور محمد ولید نے پریس کانفرنس میں مﺅقف اختیا ر کیا کہ دنیا بھر میں قصور کے اس ویڈیو سکینڈل کا شدید مذاق اڑا یا گیا جہاں کئی معصوم لڑکیں سے زیادتی کرتے ہوئے ان کی ویڈیو بنائی گئی

تاہم اس وقت پنجاب حکومت کی جانب سے ہمیں مالی معاونت کی پیش کش کی گئی مگر ہم نے اس کو ٹھکرا دیا اور ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے کی درخواست کی گئی جس پر حکومت کی جانب سے متاثرین کو قانونی مدد کے ساتھ جانی تحفظ دینے کا وعدہ کیا گیا مگر دو سال ہمیں کسی بھی طرح کوئی وکیل نہ دیا گیا اور نہ ہی ہمیں تحفظ فراہم کیا گیا جس پر کئی بار عدالت جاتے ہوئے ہمیں ملزمان کی جانب سے حملہ کا سامنا کرنا پڑا۔

متاثرین کی جانب سے مقامی یونین کونسل کے چیئرمین مبین غزنوی کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے اس بڑے جنسی سکینڈل کیس میں ایک جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بنائی گئی مگر اس کی رپورٹ کو بھی مد نظر رکھے بغیر جان بوجھ کر پنجاب حکومت کی جانب سے کیس میں جان بوجھ پر پیچیدگیاں پیدا کی گئی

جس پر عدالت کو گمراہ کرتے ہوئے اس کیس کے مرکزی ملزم سلیم شیرازی ، تنزل الرحمان ، وسیم عابد، یحییٰ ، عثمان ، عرفان آفریدی ضمانت ملنے پر جیل سے آتے ہی مزید سفاکی پر اتر ائے اور مدعیوں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں ۔

متاثرین کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے اس ویڈیو سکینڈل میں ملوث 15 سے زائد ملزمان کے جرائم کی سنجیدگی سے پیروی نہ ہونے پر جیلوں سے بھی فون کرتے رہے جبکہ ان کا کہنا تھا کہ اعلیٰ عدالت میں چلنے ولے ایفی ڈرین کیس میں ضمانت پر آنے والے ملزم سلیم شیرازی ملوث ہونے کے باوجود سیاسی آشیر باد کے باعث پروٹوکول لے رہا ہے

کہ قصور کے ڈی پی او کی جانب سے متاثرین کیس سے ملنے کو تیار نہیں جبکہ ملزمان کی جانب سے دھمکیوں پر ان کے خلاف مقامی ایس ایچ او گنڈ ا پور وحید عالم کسی بھی قسم کی کارروائی کرنے کی بجائے ملنے والی درخواست ملزمان کو پہنچا دیتا ہے ۔

واضح رہے کہ اس کیس میں 30 کے قریب متاثرین کی جانب سے ایف آئی آر درج کرائی گئی تھیں جس میں ملزمان سلیم شیرازی ، تنزل الرحمان ، عتیق الرحمان ، وسیم عابد، یحییٰ ، عثمان ، عرفان آفریدی ، علیم آصف ، حسیب عامر، وسیم شہزاد اور دیگر سمیت 15 سے زائد ملزمان نامزد کیے گئے تھے

اس کیس پر پنجاب حکومت کی جانب سے سخت ایکشن لیا گیا مگر مدعی مقدمات کی جانب سے تحفظات قائم ہونے کے باوجود بھی کوئی داد رسی نہ ہوئی پریس کانفرنس کرتے ہوئے متاثرین کا کہنا تھا کہ ہم پہلی بار منظر عام پر آکر کہنے پر مجبور ہیں کہ ہمیں انصاف کے تقاضے پورے نہ ہونے پر چیف جسٹس آف سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ جبکہ آرمی چیف سے مدد مانگنے پر مجبور ہیں اگر ان کو ملزمان سے تحفظ نہ دیا گیا

اور ان کو کیفر کردار تک نہ پہنچایا گیا تو وہ اجتماعی خودکشیوں پر مجبور ہو جائیں گے ار پنجاب اسمبلی کے سامنے خود پر تیل چھڑک کر زندہ جل مریں گے اور اس کی دھمکی نہ سمجھا جائے اس پر عمل درآمد کریں گے کیونکہ ملزم سلیم شیرازی اور ایس ایچ او تھانہ گنڈا پور وحید عالم نے ویسے ہی ہماری زندگیاں اجیرن کر رکھی ہیں

اور پولیس کی بے حسی کے باعث اس ویڈیو سکینڈل کے بعد بھی مزید کئی بچیوں کو اغواءکیا گیا اور ان کو مبینہ طور پر بداخلاقی کے بعد قتل کر دیا گیا اس خود کے عالم میں وہ علاقہ میں مزید زندگی بسر نہیں کر سکتے لہٰذا انصاف کے تقاضوں کو فوری پورا کیا جائے۔

Comments are closed.

Open

%d bloggers like this: