مالٹے اور مسمی کے چھلکوں کی مدد سے اپنے چہرے کو چاند کی طرح روشن اور چمکار بنائیں، ابھی پڑھ لیں پھر نہ کہنا کے ہم نے تو چھلکے پھینک دیے

وٹامن سی کا سب سے بہترین خزانہ مالٹے کی شکل میں موجود ہے۔مالٹا مزاج کے لحاظ سے سرد تر ہے۔ ٭ یہ ہاضم ہوتا ہے ، اسے کھاتے وقت کالی مرچ اور نمک کا اضافہ کرنے سے اس کا ذائقہ مزے دار ہوجاتا ہے۔ ٭ خون پیدا کرتا ہے۔ ٭ بلڈپریشر کو مفید ہوتا ہے۔ ٭ بدہضمی کو دور کرتا ہے۔ ٭ جگر کی خرابی‘ طحال اور تلی کے بڑھنے کی بیماری میں مالٹے کا استعمال انتہائی سودمند ہے۔ ٭ نزلہ‘ زکام ، کھانسی اور بلغمی امراض میں مالٹے کا استعمال نقصان دیتا ہے، مثلاً دمہ وغیرہ۔ ٭ جگر کی گرمی کو دور کرتا ہے۔ ٭ یہ پیاس بجھاتا ہے۔ ٭ طبیعت کو صاف کرتا ہے اور طاقت بخشتا ہے۔٭پھوڑے‘ پھنسیوں میں مالٹے کا رس بغیر نمک مرچ پینا مفید ہوتا ہے۔ ٭ یرقان اور بخار میں اس کا استعمال مفید ہوتا ہے۔

٭ اس کا چھلکا چہرے کا رنگ نکھارنے میں مفید ہوتا ہے۔ اس کا طریقہ یوں ہے کہ مالٹے کے چھلکے کے اندرونی سفید حصے کو صاف کرکے رگڑ لیں اور تیل سرسوں ملا کر رات کے وقت چہرے پر لیپ کرکے سوجائیں‘ صبح سویرے اٹھ کر کسی اچھے صابن سے منہ دھولیں۔ صرف چھ دن کے استعمال سے چہرے کے تمام داغ‘ دھبے اور چھائیاں دور ہوجائیں گے۔ ٭ مالٹے کے چھلکے کے صرف زردی والے حصے کو ہی اگر رات سونے سے قبل چہرے پر مل لیا جائے اور یہ عمل کوئی پانچ منٹ تک جاری رہے تو مذکورہ بالا فائدہ چند ہی روز کے استعمال سے ہوجاتا ہے۔ ٭ اگر ہاتھ اور پاؤں کے تلوے جلتے ہوں یعنی ان سے گرمی نکلتی محسوس ہوتی ہو تو چھ عدد مالٹے رات کو چھیل کر ان پر نمک اور کالی مرچ لگا کر اوس میں رکھیں اور صبح نہار منہ کھانے سے یہ مرض دور ہوجاتا ہے۔ ٭ سرخ مالٹافوائد کےاعتبار سے عام مالٹے سے زیادہ مفید ہوتے ہیں۔اس میں وٹامن سی کی وافر مقدار پائی جاتی ہے۔ خون کی حرارت کو کم کرتا ہے۔

’’آسمان میں ڈھانچے جیسی اڑنے والی چیز کا ظہور ‘‘

ہوا میں اڑتی چیز نے شہر میں کھلبلی مچا دی، شہریوں نے دوڑیں لگا دیں،کئی نے اسے خدا مان لیا۔ تفصیلات کے مطابق افریقی ملک زیمبیاکے ایک شاپنگ سینٹر میں انسانی شبیہہ کی طرح بنی ہوئی ایک شکل بادل کی صورت میں گزر رہی تھی جسے دیکھ کر شہریوں کے ہوش اڑ گئے ،کچھ نے تو خوف کے مارےوہاں سے دوڑیں لگا دی جبکہ کچھ افراد نے

اس کی عبادتشروع کردی ۔عینی شاہدین کے مطابق اسکی لمبائی ممکنہ طور پر 100میٹر تھی جو کہ فضا میں تقریبا ً 30منٹ تک بادلوں کی طرح تیرتارہا ۔موقع پر موجود لوگوں نے اس کی کچھ تصاویر اور ویڈیو ز بھی بنائیں جو کہ بعد ازاں سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہیں ۔تصاویر میں محسوس ہوتا ہے جیسےیہ کوئی انسانی شکل کی بادل نما چیز ہے جو شاپنگ سینٹر کا جائزہ لے رہی ہے۔‎

کھانے پینے کے آداب و احکام
الحمد ﷲ کہ ہم اسلام کے ماننے والے ہیں۔ مذہب اسلام نے اپنے پیروکاروں کو زندگی کے ہر شعبے میں زندگی گزارنے کا شعور بخشا اور بے شمار نعمتوں سے مالا مال فرمایا۔ زندگی گزارنے کی جو بنیادی ضروریات بتائی جاتی ہیں ان میں روٹی، کپڑا اور مکان اول درجہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسلام نے جو احکام ہم پر عائد کئے ہیں ان میں سے پانچ اہم شعبے ہیں۔ (۱) عقائد(۲) عبادات(۳) معاملات(۴) معاشرت (۵) اخلاق۔دین ان پانچ شعبوں سے مکمل ہوتا ہے۔ اگر ان میں سے ایک کو بھی چھوڑ دیا جائے گا تو پھر دین مکمل نہیں ہوگا۔ عقائد بھی درست ہوں، عبادات بھی صحیح طریقے سے انجام دینا چاہئے۔ لوگوں کے ساتھ لین دین ، معاملات بھی اسلامی طریقہ یعنی شریعت (جو اسلامی قانون ہے) کے مطابق ہونا چاہئے۔ اخلاق بھی صحیح ہونا چاہئے اور زندگی گزارنے کا طریقہ بھی درست ہونا چاہئے،جس کو معاشرت کہا جاتاہے۔ مشہور امام نووی علیہ الرحمتہ نے ایک باب ہی قائم فرمایا ہے۔ اس میں دین کے جس شعبے کے بارے میں احادیث مبارکہ سے ذکر فرمایا ہے وہ ہے معاشرت۔ معاشرت کا مطلب ہے دوسروں کے ساتھ زندگی گزارنا۔ زندگی گزارنے کے صحیح طریقے کیا ہیں؟ یعنی کھانا کس طرح کھایا جائے ، پانی کس طرح پیا جائے؟گھر میں کس طرح رہا جائے۔ سماج میں کس طرح رہے۔ یہ سب باتیں معاشرت سے تعلق رکھتی ہیں۔ آج کل لوگوں نے معاشرت کو دین سے نکال دیا ہے۔ اسی وجہ کر اچھے لوگوں کی معاشرت بھی خراب ہے۔ دین کے مطابق نہیں ہے۔ اس لئے معاشرت کے بارے میں جو احکام اور تعلیمات اﷲ اور اس کے رسول ﷺ نے عطا فرمائی ہیں ان کو جاننا اور ان پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔

معاشرت کے بارے میں علامہ امام نووی رحمتہ اﷲ علیہ نے پہلا باب :کھانے پینے کے آداب سے شروع فرمایا ہے۔ آپ ﷺ نے جس طرح زندگی کے ہر شعبے میں تعلیمات ارشاد فرمائی ہیں اسی طرح کھانے پینے کے بارے میں بھی اہم تعلیمات ہمیں عطا فرمائی ہیں۔ پہلا ادب: بسم اﷲ پڑھنا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی کھانا شروع کرے تو اﷲ کا نام لے۔اور اگر کوئی شخص شروع میں بسم اﷲ پڑھنا بھول گیا تو اس کو چاہئے کہ کھانا کھانے کے دوران جب بھی بسم اﷲ پڑھنا یاد آجائے، اس وقت یہ الفاظ کہے: بسم اﷲ اولہ و آخرہ(اﷲ کے نام کے ساتھ شروع کرتاہوں، اول میں بھی اﷲ کا نام اور آخر میں بھی اﷲ کا نام)ایک اور حدیث میں حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ کھانے کے وقت اﷲ کا نام لو، یعنی بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم پڑھ کر کھانا شروع کرو اور اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور برتن کے اس حصے سے کھاؤ جو تم سے قریب تر ہے۔آگے ہاتھ بڑھا کر دوسری جگہ سے مت کھاؤ ۔اس حدیث پاک میں تین آداب بیان فرمائے ہیں۔(۱) بسم اﷲ پڑھ کر کھاؤ(۲) اپنے سامنے سے کھاؤ(۳) سیدھے ہاتھ سے کھاؤ(ابو داؤد ، کتاب الاطعمہ ، باب التسمیہ علی الطعام، حدیث نمبر ۳۷۶۷) کھانے سے پہلے بسم اﷲ زور سے پڑھیں تاکہ دوسروں کو بھی یاد آجائے ۔کھانے کے بعد کم از کم الحمد ﷲ ضرور کہیں یا پھر یہ دعا پڑھیں : اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِی اَطْعَمْنَا وَسَقَانَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْن۔

مل کر کھانے کی فضیلت اور برکت:حضرت عبد اﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا اکٹھے ہو کر کھاؤ۔ الگ الگ نہ کھاؤ کہ برکت جماعت کے ساتھ ہے۔ دوسری حدیث پاک میں آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ اﷲ کو یہ بات سب سے زیادہ پسند ہے کہ وہ اپنے کسی مومن بندہ کو بیوی اور بچوں کے ساتھ دستر خوان پر بیٹھے اور جب سب کھاتے ہیں تو اﷲ ان کو رحمت کی نظر سے دیکھتا ہے اور قبل الگ ہونے سے ان کو بخش دیتا ہے۔(ابن ماجہ، نزھتہ المجالس)

Comments are closed.

Open

%d bloggers like this: