دوڑیمون ہمارے بچوں کے لیے سب سے زیادہ خطرناک کارٹون، مگر کیوں؟ پوسٹ پڑھیں

ڈوریمون آج کل کے بچوں کے سب سے پسندیدہ کارٹونز میں سے ایک ہیں. خاص طور پر پاکستان اور انڈیا میں ہر بچہ ڈوریمون کارٹون کا شوقین ہے. بچوں کو جب بھی فارغ ٹائم ملتا ہے تو ساتھ ہی ڈوریمون دیکھ کر لطف اندوز ہوتے ہیں. کچھ بچوں نے تو ڈوریمون کی خاطر کھیل میں حصّہ لینا ہی چھوڑ دیا ہے اور ہر وقت یا تو ٹی وی پر ڈوریمون کو دیکھ رہے ہوتے ہیں یا پھر آن لائن یوٹیوب پر!

ڈوریمون میں پانچ اہم کردار ہیں جن کے نام ہیں: نوبیتا، شزوکا، جیان، سونیوم اور دوڑیمون خود. یہ بیوقوفانہ کارٹون نہ صرف ہمارے بچوں کا قیمتی وقت برباد کر رہے ہیں بلکہ انکو ضدی، بدتمیز، اور چڑ چڑا بھی بنا رہے ہیں.

اس پوسٹ میں آپ پڑھیں گیں وہ انتہائی سنگین وجوہات جنکی بناہ پر ڈوریمون کارٹون کو بچوں کا سب سے خطرناک دشمن کہا جاتا ہے.ڈوریمون کارٹون بچوں کے لیے ایک قسم کا نشہ بن چکے ہیں. اگر ہم اپنے زمانے کی بات کریں تو اس وقت کارٹونز صرف شام کے اوقات میں ایک سے دو گھنٹے کے لیے لگا کرتے تھے اور ہم سب بہن بھائی مل بیٹھ کر لطف اندوز ہوتے تھے، مگر یہ منحوس ڈوریمون دن کے چوبیس گھنٹے ڈزنی نامی چینل پر لگے رہتے ہیں جسکی وجہ سے یہ ہمارے معصوم بچوں کے ذہن پر نشے کی طرح سوار ہو چکے ہیں.

تعلیمی اور بچوں کی دماغی نشونما کے لحاظ سے یہ کارٹون بلکل ہی گئے گزرے ہیں! آپ کوئی سی بھی قسط اٹھا کر دیکھ لیں ایک کے اندر بھی کوئی سبق آموز بات نہیں. اگر آپکے بچے ڈوریمون ہر وقت دیکھتے رہتے ہیں تو خدارا اپنے بچوں کو اس بربادی سے بچائیں کیونکے اس میں نہ تو کوئی اچھی بات سیکھنے کو ملتی ہے اور نہ ہی کوئی اچھا سبق، صرف و صرف وقت کا ضیاہ ہے اور کچھ نہیں.اسکے علاوہ دوڑیمون کارٹون میں کافی غیر اخلاقی باتیں بھی ہیں جو ہمارے بچوں پر بہت برا اثر ڈال رہی ہیں. اس کارٹون کا ایک اہم کردار ‘نوبیتا’ ہے جو ہر وقت اپنی ہم عمر لڑکی ‘شزوکا’ کے عشق میں گرفتار رہتا ہے اور لڑکی کے ساتھ الٹی سیدھی باتیں کرتا رہتا ہے.

“شزوکا کیا تم اکیلی نہاتی ہو، مجھے تمھیں دیکھنے کا من کرتا ہے”
“بڑے ہو کر میں اور شزوکا خاوند بیوی بن کر رہیں گے”
“شزوکا اگر تم رات کو گھر پر اکیلی ہوگی تو کیا میں آجاؤں؟ تمہیں ڈر نہیں لگے گا”

یہ جو ڈائلاگ آپ پڑھ رہے ہیں یہ کوئی بالیووڈ یا ہالی ووڈ فلم کا ڈائلاگ نہیں بلکہ یہ تمام غیر اخلاقی باتیں ‘نوبیتا’ مختلف قسطوں میں کر چکا ہے. اب آپ خود سوچئے کے کیا یہ سب دیکھنا ہمارے بچوں کے لیے صحیح ہے؟ ان تمام باتوں سے تو ہمارے بچوں کا ذہن فحش ہو جاۓ گا!

ڈوریمون کارٹون کے اہم کردار جیسے کہ ‘نوبیتا’، ‘جیان’، اور ‘سونیو’ ہر وقت لڑتے جھگڑتے اور ایک دوسرے کی مار پیٹ کرتے رہتے ہیں. اس مار پیٹ سے ہمارے بچوں کو کیا اچھا سبق ملنا ہے؟ آپ خود ہی سوچ لیجئے.اس کارٹون کا مرکزی کردار یعنی کہ نوبیتا ہر وقت روتا رہتا ہے اور اپنے روبوٹ بھائی “ڈوریمون” سے مدد مانگتا رہتا ہے. نوبیتا نہ تو اپنی والدہ کا کہا مانتا ہے اور نہ ہی اسکول میں اپنے اساتذہ کا کام دلچسپی سے کرتا ہے. اس کے ذہن پر صرف دو ہی چیزیں ہر وقت سوار رہتی ہیں، ایک شزوکا اور دوسرا ٹائم پاس کرنا. نوبیتا کا کردار ہمارے بچوں پر کافی منفی اثرات مرتب کرتا ہے جوکہ بلکل بھی ٹھیک نہیں.

اس کارٹون میں موجود “ڈوریمون” نامی روبوٹ کے پاس کچھ ایسی شکتیاں ہیں کے کچھ بھی کر لیتا ہے. اس کے پیٹ پر ایک جیب بنی ہے جسمے یہ ہاتھ ڈال کر مختلف قسم کی مشینیں نکال لیتا ہے اور اپنی ضرورت کا ہر کام پورا کر لیتا ہے. یہ روبوٹ کوئی بھی شخص کو چھوٹا بڑا بھی کر لیتا ہے، کسی بھی شخص کو اسکے ماضی یا مستقبل میں بھیج دیتا ہے، نئی دنیا بھی بنا لیتا ہے، ایک جادوئی دروازے سے ایک ملک سے دوسرے ملک بھی چلا جاتا ہے! اگر میں آپکو اس روبوٹ کے کارنامے بتاتا چلو تو آپ اپنا سر پکڑ لیں گے.

اس پوسٹ میں ہم نے آپکو صرف چند اہم وجوہات بتائی ہیں جن کی بناه پر یہ کارٹون ہمارے بچوں کے لیے بہت خطرناک ہیں. نہ تو ان سے کوئی اچھا سبق ملتا ہے اور نہ ہی بچوں کی اچھی ذہنی نشونما ہوتی ہے. اس لیے والدین کو چاہیے کے اپنے بچوں کو ڈوریمون کارٹون سے دور رکھیں اور انکو سبق آموز کہانیاں دکھائیں

اپنے پیٹ سے ضرور ادھار کیا کرو

ایک بزرگ کہیں جا رہے تھے کے راستے میں ایک شخص ملا جو پیٹ پہ ہاتھ رکھے درد سے کراہ رہا تھا بزرگ نے اس شخص سے دریافت کیا اے شخص کیا واقع پیش آیا جو اس تکلیف میں مبتلا ہوا وہ شخص جواب

دیتا ہے. اے بزرگوار آج میں نے گوشت کھایا اور اتنا کھا لیا کے اب یوں محسوس ہوتا ہے کے جیسے سب باہر نکلنے والا ہے. بزرگ نے فرمایا : میرے پاس تمہارا کوئی علاج نہیں.

چند قدم آگے چلے تواسی طرح کی تکلیف میں شخص مبتلا نظر آیا. بزرگ نے جب اس سے وجہ الم پوچھا تو وہ شخص کہتا ہے کہ :اے بزرگوار میں نے دو دن سے کھانا نہیں کھایا اور بھوک سے اب درد سہہ

نہیں پا رہا بزرگ نے پیچھے مڑ کر اس پہلے شخص کو دیکھا اور کہا : اے شخص اگر تو تھوڑا کھا لیتا اور کچھ کھانا اس بھوکے کو کھلا دیتا تو آج نہ تو تڑپ رہا ہوتا اور نہ یہ. شیخ سعدی فرماتے ہیں کے ادھار ایک لعنت ہے لیکن اپنے پیٹ سے ضرور ادھار کیا کرو “

ممبئی کی شان وکٹوریہ کی الٹی گنتی شروع
کبھی ممبئی کی شان اور شناخت سمجھی جانے والی (وکٹوریہ ) گھوڑا گاڑی اب ۲۰۱۶ء تک ہی ممبئی کی سڑکوں یا تفریح گاہو ں پر دوڑ سکے گی کیونکہ ممبئی ہائی کورٹ نے اس پر پابندی نافذ کردی ہے اور حکومت مہاراشٹر کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایک سال کے اندر اس کا روبار سے جڑے افراد کو متبادل کاروبار کی سہولیات فراہم کرے تاکہ اس کاروبارسے متعلق ان سات سو کے قریب خاندانوں کو روزی روٹی کی فراہمی ہوسکے۔

اس وکٹوریہ یا گھوڑا گاڑی کے مختلف نام ہیں جو ذرا ذرا سے فرق اور تبدیلی کے ساتھ سمجھے اور جانے جاتے ہیں کہیں اسے بگھی کا نام دیا گیا تو کہیں اسے تانگہ اور ٹم ٹم کہتے ہیں لیکن چھوٹے چھوٹے شہروں اور قصبات میں اسے یکّہ بھی کہا جاتا ہے یکہ کی وجہ تسمیہ غالبا ً یہ سمجھ میں آتی ہے کہ اس میں فقط ایک ہی گھوڑاجتا ہوتا تھا اور اس کی سواری مسافروں کو سستے کرائے میں حاصل ہوجاتی تھی کہیں کہیں دو گھوڑوں والا تانگہ بھی چلایا جاتا تھا جس کا کرایہ کچھ زیادہ ہوتا تھا اس کی نشست گاہیں ذرا بہتر اور آرام دہ ہوتی تھیں ،اس فرق کو آج کی سادہ بسوں اور لگژری بسوں سے بہ آسانی سمجھا جاسکتا ہے لیکن نوابوں اور بادشاہوں کی سواریاں اپنے معیار اور ثروت و حیثیت کے اعتبار سے کافی مختلف ہوا کرتی تھیں جن میں چار چار اور آٹھ آٹھ گھوڑے جتے ہوتے تھے ان کی بناوٹ اور سجاوٹ بھی انتہائی اعلی ٰ معیار کی ہوتی کہ دیکھ کے ہی رشک آجائے ۔

لیکن وہ جو کہتے ہیں، ؍ وقت کا کیا ہے کسی پل بھی بدل سکتا ہے ۔۔؍وہ اپنے ساتھ ساتھ چیزوں کو بھی بدل دیتا ہے اب وہ سواریاں پٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی برق رفتار گاڑیوں میں تبدیل ہوچکی ہیں جو نہایت آرام دہ اور موسموں کی مناسبت سے کافی سکوں بخش ہوتی ہیں ، یہ الگ بات ہے کہ اس وقت کے امراء نوابین و سلاطین اپنے آرام کے ساتھ اپنی رعایا کو بھی مسرور و شادماں رکھنے کی کوشش کرتے تھے اور انہیں انصاف فراہم کرنے کیلئے سارے جتن کرڈالتے ، رشوت لینے اور دینے کے عمل کو انتہائی مہلک تصور کرتے ، یہی وجہ تھی کہ ان کے دورمیں لوگ تھوڑے پر بھی مطمئن اور خوش رہا کرتے تھے ، اس کے برعکس آج کے حکمراں اور سرکاری اہل کار عوام کی بے آرامی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے بلکہ ایسا کرکے وہ خوش بھی ہوتے ہوں گے ، تبھی تو چوربازاری ، رشوت خوری ، مہنگائی اور بدعنوانیوں کاہر طرف بازارگرم ہے اور یہ ساری گرمی بازار انہی کی سرپرستی میں آگے بڑھتی ہے ۔خود کو عوام کا خادم کہنے والے معمولی میونسپل کارپوریٹر بھی اب کسی بادشاہ سے کم نہیں ہوتے ، ایم ایل اے ، ایم پی ، بیوریوکریٹ اور منسٹروں کے آرام و آسائش کا اندازہ لگانے میں اب کیلکولیٹر بھی ناکام ہوگیا ہے پھر ہماری اور آپ کی بھلا بساط ہی کیا ہے ۔

اب یہ شاہی سواریاں تو بس یادوں کے نہاں خانوں میں ہی محفوظ رہ گئی ہیں یا پھر بچے کھچے محلات اور رجواڑوں کے یہاں روایتی تقریبات کے دوران کبھی کبھی دکھائی پڑ جاتی ہیں ۔ گذشتہ دنوں ملائم سنگھ کی سالگرہ پر اعظم خان نے لندن سے ایک بگھی منگواکر انہیں بطور تحفہ نذر کی تھی جس کی قیمت اندازاً ۷۰؍لاکھ بتائی جاتی ہے ،یہ الگ بات ہے کہ اپوزیشن نے اس پر خوب واویلا مچایا تھا ۔

آج سے پانچ چھ دہائیوں پہلے جب ممبئی میں ٹرافک کی اتنی بھر مار نہیں تھی یہ گھوڑا گاڑیاں بڑی شان و شوکت سے چلاکرتی تھیں اور ان پر سوار لوگ خود کو کسی نواب یا بادشاہ سے کم نہیں سمجھتے تھے ۔عوام کو تو جانے دیں وہ جو چاہے سمجھیں ،ان گاڑیوں کے چلانے والے کوچوان بھی خود کو کسی سے کم سمجھتے تھے امراء ، رؤساء اور اہل ثروت کو لے کر چلنے والے یہ کوچوان عموماً بڑے نباض سیاست ہوا کرتے تھے تبھی تو چودھری خلیق الزماں جو پنڈت جواہر نہرو کے ہم عصراور مسلم لیگ کے سرکردہ لیڈروں میں شمار کئے جاتے تھے ، اکثر کہا کرتے کہ ’’ نہرو سے زیادہ سیاست تو میرا کوچوان جانتا ہے ۔‘‘وہ کوچوان نہرو جی سے زیادہ سیاست جانتا تھا یا نہیں اس پر تو آج تک کوئی تحقیق نہیں کی جاسکی البتہ بعد کے حالات اورتاریخی حوالوں سے یہ علم ضرور ہوا کہ پاکستان جانے کے بعد یہ چوٹی کا سیاستداںخود گمنامی کی نذر ہوکر رہ گیا تھا ۔

ادھر کچھ برسوں سے لوگ بغرض تفریح بھی اس سواری سے کترانے لگے ہیں ،اس کے برعکس جدید ٹیکنالوجی سے تیارشدہ انتہائی خوبصورت ، آرام دہ اور پرسکون موٹر گاڑیوں اور بائیکوں پر سفر کو زیادہ ترجیح دینے لگے ہیں اب تو یہ حال ہے کہ لوگ گھوڑا گاڑی پر بیٹھنے کو کسر شان بھی سمجھنے لگے ہیں ، ظاہر ہے اس صورتحال کا براہ راست اثر اس پیشے سے منسلک افراد پر پڑنا تھا سو پڑا اور ان کی روزی روٹی کا شدید مسئلہ پیدا ہوگیا تو فوری طور پر اس کا نعم البدل متاثرین نے یہ تلاش کیا کہ ان لوگوں نے اپنی گاڑیاں ساحل سمندر اور دیگر تفریحی مقامات پر چلانی شروع کردیںجس سے بڑی حد تک ان کے آنسو خشک ہوئے ، لیکن بھلا ہو’’ اینمل برڈ چیری ٹیبل ٹرسٹ ‘‘ نامی غیر سرکاری تنظیم کا ، اس نے ہائی کورٹ میں رٹ دائر کی اور اس کاروبارسے منسلک لوگوں کی لاپروائی ، گھوڑوں اور اصطبل کو گندا رکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس غلاظت سے بیماریاں پھیل سکتی ہیں جو عوامی سطح پر نقصان کا باعث ہوسکتا ہے ۔اس تنظیم نے ڈونگری اور پلے ہاؤس پر موجود کچھ اصطبلوں کی تصاویر بھی پیش کیں جہاں بہ مشکل چند گھوڑا گاڑیاں کھڑی ہوتی تھیں ۔سماعت کے دوران عدالت نے وکٹوریہ مالکان کے وکیل کے بھی دلائل سنے پھر بھی یہ فیصلہ کیا کہ اب ان گاڑیوں کی شہر میں ضرورت نہیں لیکن وکٹوریہ مالکان کو ایک سال کا وقت دیا ساتھ ہی حکومت کو یہ ہدایت بھی دی کہ وہ سال بھر میں اس کاروبار سے متعلق سبھی افراد کو متبادل کاروبار اور حسب ضرورت سہولیات فراہم کرے ۔

اس ضمن میں سماجی خدمت گار سید ظفر اور اسلم قریشی سے جب بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ یہ گاڑی ( وکٹوریہ) ممبئی کی شان تھی اور ابھی بھی غیر ملکی سیاح اس وکٹوریہ میں بڑے شوق سے سفر کرنا پسند کرتے ہیں اور لطف اندوز ہوتے ہیں ، اسے بند کرنا انتہائی افسوسناک ہے ، اس سے تقریبا ً سات سو خاندان متاثر ہوئے ہیں جن کی روٹی روزی کا بہت بڑا مسئلہ کھڑا ہوگیا ہے اس لئے ہمارا مطالبہ ہے کہ انہیں جلد از جلد متبادل روزگار مہیا کیا جائے ساتھ ہی انہیں مالی تعاون بھی دیا جائے ،اور یہ مشورہ بھی دیا کہ ان کے حق میں زیادہ بہتر ہوگا کہ انہیں ٹیکسیوں اور آٹو رکشاؤں کے پرمٹ جاری کئے جائیںتاکہ وہ آسانی کے ساتھ اپنا روزگار شروع کرسکیں اور وقت کے دھارے میں شامل ہوکر دوسرو ں کے شانہ بشانہ ہم قدم ہوسکیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ریاستی حکومت اس ضمن میں کتنی بالغ نظری کا ثبوت دیتی ہے ۔

Open

%d bloggers like this: