دولہا نے دلہن کا گونگٹ اٹھا یا اور ایسا کیا کام کیا کہ دلہن چیخ چیخ کر رونا شروع ہو گئی

جیسے ہی دولہا نے دلہن کا گونگٹ اٹھا یا اور کہا کہ میں تم سے شادی کرنے کیلئے راضی نہیں تھا ، ہاں میری ایک مجبوری تھی۔ شاید میں تمہیں زندگی میں وہ پیار کبھی نہ دے سکوں جس کی تم حقدار ہو ۔ یہ کہہ کر وہ اٹھا اور دوسرے کمرے میں چلا گیا ۔

وہ گم صم بیٹھی خالی کمرہ دیکھ رہی تھی ۔ من میں خیال آیا وہ بھی چیخ چیخ کر بول دے کہ ایک تم ہی کیا میں بھی کسی کو دل و جان سے چاہتی تھی۔ اس کیساتھ زندگی گزارنا چاہتی تھی ، مانا کہ وہ غریب تھا مگر بے حد محنتی تھا ۔بس گھر والوں کو پسند نہ آیا ۔ میں بھی ہار گئی ۔۔۔ تم سے شادی ہو گئی ۔۔

تم مرد تو سب کے سامنے بھی کہہ سکتے ہو ہم عورتیں کیسے کہیں ۔ جذبات تھے کہ لفظوں کا پیراہن چاہ رہے تھی ۔ جیسے کہہ رہے ہوں ۔ یہ چپ کی روایت توڑ دو آج ۔۔ توڑ دو۔۔۔ مگر حلق تک آتے آتے لفظوں نے اشکوں کی شکل لے لی ۔۔۔ آواز دم توڑ گئی ۔ پر وہ روایت نہ توڑ سکی ۔

قحط کی یہ آفت آسمان کا عذاب ہے

خلیفہ ہارون الرشید عباسی خاندان کا پانچواں خلیفہ تھا‘ عباسیوں نے طویل عرصے تک اسلامی دنیا پر حکومت کی لیکن ان میں سے شہرت صرف ہارون الرشید کو نصیب ہوئی. ہارون الرشید کے دور میں ایک بار بہت بڑا قحط پڑ گیا.

اس قحط کے اثرات سمرقند سے لے کر بغداد تک اور کوفہ سے لے کر مراکش تک ظاہر ہونے لگے.ہارون الرشید نے اس قحط سے نمٹنے کیلئے تمام تدبیریں آزما لیں‘اس نے غلے کے گودام کھول دئیے‘ ٹیکس معاف کر دئیے‘ پوری سلطنت میں سرکاری لنگر خانے قائم کر دئیے اور تمام امراءاور تاجروں کو متاثرین کی مدد کیلئے موبلائز کر دیا لیکن

اس کے باوجود عوام کے حالات ٹھیک نہ ہوئے. ایک رات ہارون الرشید شدید ٹینشن میں تھا‘ اسے نیند نہیں آ رہی تھی‘ ٹینشن کے اس عالم میں اس نے اپنے وزیراعظم یحییٰ بن خالد کو طلب کیا‘ یحییٰ بن خالد ہارون الرشید کااستاد بھی تھا.اس نے بچپن سے بادشاہ کی تربیت کی تھی. ہارون الرشید نے یحییٰ خالد سے کہا ”استادمحترم آپ مجھے کوئی ایسی کہانی‘ کوئی ایسی داستان سنائیں جسے سن کر مجھے قرار آ جائے“

یحییٰ بن خالدمسکرایا اور عرض کیا ”بادشاہ سلامت میں نے اللہ کے کسی نبی کی حیات طیبہ میں ایک داستان پڑھی تھی‘ یہ داستان مقدر‘ قسمت اور اللہ کی رضا کی سب سے بڑی اور شاندار تشریح ہے. آپ اگر ..اجازت دیں تو میں وہ داستان آپ کے سامنے دہرا دوں“ بادشاہ نے بے چینی سے فرمایا ”

یا استاد فوراً فرمائیے. میری جان حلق میں اٹک رہی ہے“ یحییٰ خالد نے عرض کیا ” کسی جنگل میں ایک بندریا سفر کیلئے روانہ ہونے لگی‘ اس کا ایک بچہ تھا‘ وہ بچے کو ساتھ نہیں لے جا سکتی تھی چنانچہ وہ شیر کے پاس گئی اور اس سے عرض کیا ”جناب آپ جنگل کے بادشاہ ہیں‘ میں

سفر پر روانہ ہونے لگی ہوں‘ میری خواہش ہے آپ میرے بچے کی حفاظت اپنے ذمے لے لیں“ شیر نے حامی بھر لی‘ بندریا نے اپنا بچہ شیر کے حوالے کر دیا‘شیر نے بچہ اپنے کندھے پر بٹھا لیا‘ بندریا سفر پر روانہ ہوگئی‘ اب شیر روزانہ بندر کے بچے کو کندھے پر بٹھاتا اور جنگل میں اپنے روزمرہ کے کام کرتا رہتا.

ایک دن وہ جنگل میں گھوم رہا تھا کہ اچانک آسمان سے ایک چیل نے ڈائی لگائی‘ شیر کے قریب پہنچی‘ بندریا کا بچہ اٹھایا اور آسمان میں گم ہو گئی‘ شیر جنگل میں بھاگا دوڑا لیکن وہ چیل کو نہ پکڑ سکا“ یحییٰ خالد رکا‘ اس نے سانس لیا اور خلیفہ ہارون الرشید سے عرض کیا”بادشاہ سلامت چند دن بعد بندریا واپس آئی اور شیر سے اپنے بچے کا مطالبہ کر دیا.

شیر نے شرمندگی سے جواب دیا‘ تمہارا بچہ تو چیل لے گئی ہے‘ بندریا کو غصہ آگیا اور اس نے چلا کر کہا ”تم کیسے بادشاہ ہو‘ تم ایک امانت کی حفاظت نہیں کر سکے‘ تم اس سارے جنگل کا نظام کیسے چلاﺅ گے“ شیر نے افسوس سے سر ہلایا اور بولا ”میں زمین کا بادشاہ ہوں‘

اگر زمین سے کوئی آفت تمہارے بچے کی طرف بڑھتی تو میں اسے روک لیتا لیکن یہ آفت آسمان سے اتری تھی اور آسمان کی آفتیں صرف اور صرف آسمان والا روک سکتا ہے“.یہ کہانی سنانے کے بعد یحییٰ بن خالد نے ہارون الرشید سے عرض کیا ”بادشاہ سلامت قحط کی یہ آفت بھی اگر زمین سے نکلی ہوتی تو آپ اسے روک لیتے‘ یہ آسمان کا عذاب ہے‘ اسے صرف اللہ تعالیٰ روک سکتا ہے چنانچہ آپ اسے رکوانے کیلئے بادشاہ نہ بنیں‘ فقیر بنیں‘ یہ آفت رک جائے گی“.

ایک راجستھانی کی کہانی خود اس کی زبانی

میَں بنادی طور پر راجستھانی ہوں۔ میرے پرکھوں کی سرزمین رجستھان کی ریاست بیکانیر تھی۔ غزنوی حکمران نے جب بھٹنیرپر حملہ کیا تو میرے خاندان کے جدِ امجد بھٹنیر (موجودہ بیکانیر) سے دہلی منتقل ہو گئے اور دہلی سے منسلک شہر کھڈی ضلع شکار پور کو اپنا مسکن بنایا۔بعدہ یوپی میں ضلع مظفر نگر کو آباد کیا اور قیام پاکستان تک اسی سرزمین کو آباد کیے رکھا۔ اس حوالے سے مجھے راجستھانیوں سے دلی لگاؤ ، اور ان سے پیار و محبت کا رشتہ ہے۔

مَیں گزشتہ چار دیہائیوں سے قلم و قرطاس سے وابستہ ہوں، لکھنے لکھانے کی رفتار کبھی تیز کبھی سست اور کبھی بہت ہی دھیمی لیکن لکھت کا دھارا کبھی جامد نہیں ہوا ، ایسی شخصیات پر زیادہ لکھا جنہیں دیکھا، پرکھا، محسوس کیا ، ان پر بھی لکھا جنہیں کبھی نہیں دیکھا صرف پڑھا اور محسوس کیا۔لکھنے کے حوالے سے میرا نقطہ نظر ہمیشہ یہ رہا ہے کہ جس چیز میں سچائی نظر آئے، بھلائی دکھائی دے، نصیحت کایاکچھ سیکھنے کا کوئی پہلو سات پردوں میں چھپا ہو نظر آئے اسے سامنے لانے کی سعیٔ کی جائے، ساتھ ہی یہ مقصد بھی کہ جو کچھ پروردگار نے صلاحیت پیدا کردی ہے اس سے مخلوق انسانی کو فیض پہنچے ، میری نظر میں یہ بھی مخلوق کی خدمت ہے کہ کسی بھی شخصیت میں پنہا معمولی معمولی خوبیوں کو ، صلاحیتوں کوعام کیا جائے ۔

میرے ایک دوست تھے انعام اختر بھوجانی ، ان کی بیگم کا نام تھا روبینہ اختر فرید۔ یہ اُس وقت کی بات ہے جب میں لیاری کے علاقے آگرہ تاج کالونی میں رہائش پذیر تھا اور میرے زیادہ تر تعلقات اسی علاقے کے مکینوں کے ساتھ تھے۔ میری ملازمت بھی لیاری کے ایک کالج میں تھی اس وجہ سے میں لیاری کے لوگوں کے ساتھ اس قدر گھلا ملا ہواتھا کہ میرا اوڑھنا پچھونا وہی لوگ ہو اکرتے تھے۔ مسٹر بھوجانی قدیم کراچی کے علاقے رنجھوڑ لائن کے باسی تھے۔لیاری کے سماجی کاموں کے حوالے سے ہم ایک دوسرے کے نذدیک آگئے تھے۔ 1988ء میں نے لیاری کو خیر باد کہا اور عبد اﷲ ہارون گورنمنٹ کالج سے بھی تبادلہ گورنمنٹ کالج برائے طلبہ، ناظم میں ہوگیا ۔ اب لیاری کے احباب سے راہ و رسم رفتہ رفتہ کم ہوتی گئی یہاں تک کہ ختم ہی ہوگئی۔ میں ریٹائرمنٹ کے بعد سرگودھا یونیورسٹی اور پھر سعودی عرب چلا گیا۔ میرے دوست کی بیٹی نے میرے مضمون کا انتخاب کیا اور وہ سر سید کالج میں پڑھتی رہی، اسے کتاب اور کتب خانوں سے زیادہ ہی انسیت تھی چنانچہ اس نے میری کتابوں کا مطالعہ کیا اور انٹر اوربی اے تک میری ہی کتابیں پڑہیں تو وہ میرے نام سے بخوبی آشنا ہوگئی لیکن اسے اس بات کا علم نہیں تھا کہ اس کے والد اور میں باہم دوست رہے ہیں۔ میں اکثر سرسید کالج پریکٹیکل لینے جایا کرتا تھا۔ ایک دن اس بچی سے ملاقات ہوئی ۔ اس نے تفصیل بتائی ، ساتھ ہی اپنے والد کا نام اور دیگر تفصیل سے بھی آگاہ کیا۔ یہ تو میرے عزیز دوست کی اکلوتی بیٹی اوراپنے جڑواں بھائی کی اکلوتی بہن تھی۔ اس نے صرف میری تصانیف کا مطالعہ ہی کیا تھا۔ یہ اس کی سعادت مندی کہ وہ مجھے اپنا استاد تصور کرتی تھی حالانکہ میں نے اسے کلاس میں باقاعدہ نہیں پڑھایا تھا۔ اسے جب یہ معلوم ہوا کہ لائبریری سائنس کا کوئی کورس بھی لیاقت لائبریری میں ہوتا ہے ، تو اس نے وہا بھی داخلہ لے لیا اب وہ میری باقاعدہ شاگردہوچکی تھی۔ اس کے والد کا بہت جلد انتقال ہوگیا تھا، مجھے اس کا علم نہ ہو سکا۔ایک دن میں نے اس سے اس کے والد اور اپنے دوست کے بارے میں پوچھا کہ یہ حادثہ کب اور کس طرح پیش آیا۔ اس کی زبانی اس کی اور اس کے خاندان کی جو کہانی سنی تو طبیعت اس جانب مائل ہوئی کہ اس بچی کی باتوں میں سچائی ہے، دکھ ہے، کسک ہے،کھٹک ہے، ٹِیس ہے، چبھن ہے، درد ہے ۔میں نے اس کی دکھ سکھ بھری داستان کو اس کی زبانی سنا تو یہ خیال پیدا ہوا کہ اس درد بھری کہانی کو قرطاس پر منتقل کرنے کی کوشش کروں۔ حال ہی میں میرے ایک سید سبطین رضوی کا انتقال ہوا تو مجھے یکا یک بھوجانی یاد آگیا ، ساتھ ہی اس کی بیٹی کی سنائی ہوئی درد بھری داستان بھی تازہ ہوگئی۔جو باتیں یاد رہ گیں تھیں ان کی بنیاد پر میں نے اس درد بھری کہانی کو قرطاس پر منتقل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اپنے دوست کو یہ بھی ایک طریقہ ہے خراج تحسین پیش کرنے کا۔میں نے اپنے دوست سبطین رضوی کو ایک مضمون کے ذریعہ خراج تحسین پیش کیا ہے۔ مقصد اس تحریر کا مقصد یہ کہ دنیا میں ایسے با ہمت لوگ بھی ہیں جن پر غموں کا پہاڑ ٹوٹ جائے تو وہ ثابت قدم رہتے ہیں۔ اندر سے چاہے ٹوٹ پھوٹ چکے ہو ں لیکن دنیا کے سامنے اپنی اس ٹوٹ پھوٹ کا اظہار نہیں کرتے۔ یہ بھی کہ ہمیں اﷲ کی مرضی کے سامنے سرجھکانا ہے، جو وہ کرتا ہے ہمارے لیے وہی بہتر ہوتا ہے۔

انعام اختر بھوجانی مرحوم کے خاندان نے قیام پاکستان کے بعد ہجرت کی اور کراچی کو اپنا ٹھکانا بنایا، پاکستان اور بھارت جب ایک دوسرے سے 1965ء کی جنگ میں مصروف تھے تو انعام اختر بھوجانی اس دنیا میں وارد ہوئے۔ یہ خاندان بنیادی طور پر راجستھانی ہے اور راجستھان کے علاقے جیسل میر میں آباد تھا ۔راجستھانی ہونے کے ناتے یہ خاندان میرا ہم وطن بھی ہو۔’بھوجانی ‘ کی وجہ تسمیہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ کئی سو سال قبل راجستھان کی سرزمین میں ایک خاندان آباد تھا ان میں سے ایک شخص کا نام ’بھوجا‘ تھا، یہ اس وقت کے حکراں خاندان سے تعلق رکھتے تھے، انہوں نے اسلام قبول کیا، بھوجا سے مراد کھانا کھلانے والا، خیرات بانٹنے والا، غریبوں کی مدد کرنے والاہے ۔ اس خاندان کے بزرگ ’بھوجا‘ اپنی خوبیوں اور اچھائیوں، لوگوں کی مدد کرنے کی وجہ سے بھوجانی ہوگئے اور اس خاندان کے لوگ اپنے نام کے ساتھ بطور خاندانی نام بھوجانی لگانے لگ گئے یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ انعام اختر بھوجانی مرحوم جوان ہوئے تو روبینہ اختر فرید مرحومہ سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئے۔ زندگی کی خوشیاں دوبالا ہوئیں ، خوشیوں نے دونوں کی زندگی میں ایک نئی روح بھونک دی۔ روبینہ اختر ایک پڑھی لکھی خاتون تھیں ۔ باوجود اس کے کہ مالی ضروریات نہیں تھیں انہوں نے درس وتدریس کے پیشہ کو اپنا مستقبل بنایا اور اسکول کی ٹیچر سے وہ ہیڈ مسٹریس کے عہدہ پر فائز ہوئیں۔ اﷲ نے اولاد کی نعمت سے سرفراز کیا تو خوشیوں کی انتہانہ رہی۔ پروردگار نے ایک نہیں بلکہ دو جڑواں بیٹے دیے ، خوشی اور بھی دوبالا ہوگئی، لیکن یہ خوشی زیادہ عرصہ قائم نہ رہی اور یہ دونوں بیٹے یکے بعد دیگرے اﷲ کو پیارے ہوگئے۔ باغ باں افسردہ ہوگیا، کلی مرجھاگئی لیکن استاد تو دوسروں کو تسلی و تشفی دیا کرتا ہے ، دونوں نے اس فیصلہ کو اﷲ کا فیصلہ سمجھتے ہوئے قبول کیا، ماں نے اپنے دل کے ٹکڑوں کی جدائی کو درد و کرب کے ساتھ، حوصلے اور ہمت کے ساتھ قبول کر لیا۔ لیکن ایک انجانے خوف نے ان کے دل میں مستقل گھر کر لیا تھا کہ اب ان کے ہاں جڑواں اولادیں ہی ہوا کریں گی۔ یہ خوشی کی بات بھی تھی اور ڈر و خوف کی علامت بھی۔ کچھ وقت گزرجانے کے بعد اﷲ کے حکم سے روبینہ اختر کی پھر سے گود ہری ہوئی ، اب وہ خوش بھی تھیں اور پریشان بھی ۔ اﷲ کے حکم کے آگے کس کی کیا مجال کہ وہ اف بھی کرے ۔ اس بار اﷲ نے ایک بیٹی اوربیٹا عطا کیا ، دونوں دنیا میں آئے تو معلوم ہوا کہ دونوں بہن بھائی پیر کی ایک ایک انگلی سے جڑے ہوئے ہیں۔ گویا بھائی کو بہن سے اور بہن کو بھائی سے اس قدر محبت کے دنیا میں ہاتھ پکڑ کر ہی نہیں بلکہ پیر کی ایک انگلی کو باہم جوڑ لیا کہ کہیں دونوں میں سے کسی ایک کو پہلے نہ نکال لیا جائے۔ دونوں صحت مند تھے لیکن دنیا میں اس طرح کا ساتھ ممکن نہیں تھا ، چنانچہ ڈاکٹروں نے دونوں کی پیر کی ایک ایک انگلی جو سامنے کی جانب سے جڑی ہوئی تھی علیحدہ کردیں لیکن دونوں بہن بھائیوں کی محبت اور ایک دوسرے سے عقیدت کا عالم کہ ایک کے حصے میں انگلی میں موجود گوشت آیا جب کہ بھائی کی انگلی میں صرف ہڈی آئی۔ اﷲ نے دونوں کو زندہ رکھا اور دونوں بڑے ہوئے۔ کچھ عرصہ بعد پھر دو جڑواں بیٹے ہوئے اور اﷲ کو پیارے ہوگئے ۔آٹھ سال بعد اﷲ نے اس جوڑے کو پھر سے خوشیاں دکھائی اور روبینہ اختر کو ایک بیٹے سے سرفراز کیا ، روبینہ بہت حیران اور پریشان تھی کہ اس بار ایک ہی کیوں؟ روبینہ اختر کا یہ بیٹا صرف پانچ سال اپنی زندگی لکھوا کر لایا تھا۔ روبینہ اختر نے تین بار جڑواں بچوں کو جنم دیا ، جس میں ان کے کل 6بیٹے اور ایک بیٹی ہوئی، ان میں چھ بیٹوں میں سے پانچ اﷲ کو پیارے ہوئے۔ اس ماں کے دکھ کا کیا عالم ہوگا ، اس کا احساس کوئی نہیں کرسکتا، دونوں میاں بیوی کو پانچ بیٹوں کی جدائی نے اندر سے توڑ کے رکھ دیا تھا۔ان کی کمر ٹوٹ کر رہ گئی تھی، دونوں افسردہ رہنے لگے تھے، دنیا سے دل اکتا گیا تھا، کسی سے کچھ نہ کہا لیکن دونوں نے خاموشی سے واپسی کی تیاری شروع کردی، کسی کو اس کی خبر نہ تھی کہ دونوں نے کیا ارادہ کر لیا ہے اور وہ بہت جلد ایک ایسے سفر پر روانہ ہونے والے ہیں کہ جہاں سے کوئی دوبارہ واپس نہیں آتا۔دونوں ایک دوسرے سے پہلے جانے کا دعویٰ کیا کرتے ، ایک کہتا کہ میں پہلے جاؤں گا دوسرا فریق کہتا کہ نہیں میں پہلے جاؤں گی۔ یہی ہواروبینہ اختر نے پہل کرتے ہوئے 25 فروری 2012ء کو دنیا کا ساتھ چھوڑدیا۔باغ باں حیران و پریشان کرے تو کیا کرے،اسے اپنی شریک سفر کی جدائی کا ایسا غم لگا کہ اس نے سوا سال مشکل سے پورا کیااور اپنی بیٹی یازمہ اور اکلوتے بیٹے شہیم بھوجانی کو اکیلا چھوڑ کر دنیا کو خیر باد کہنے کی ٹھان لی۔انعام اختر بھوجانی بھی مختصر علالت کے بعد 12جون 2013ء کو دنیا سے رخصت ہوگئے ۔میاں بیوی کا لازوال تعلق ،دنیا میں کس قدر قربت کا، محبت کا، ایک دوسرے کے خیال کا ہوگا جب ہی تو دونوں میں سے ایک اپنے ساتھی کی جدائی کو برداشت نہ کرسکا اور چند ماہ بعد ہی اس نے رخت سفر باندھ لیا۔انعام اختر بھوجانی اور روبینہ اختر اپنے بیٹے شہیم اور بیٹی یازمہ کو تنہا چھوڑ کر ملک عدم کو کوچ کر گئے ۔ اس وقت ان بچوں کی عمریں 17؍18برس تھیں۔ یازمہ کی پرورش اس کی نانی اور نانا نے کی ، بلکہ وہ انہیں کہ گھر پلی بڑھی جب نانا اور نانی کا انتقال ہوگیا تو یہ اپنے امی اور ابو کے گھر منتقل ہوگئی۔ اس وقت سے دونوں بہن بھائی تنہا زندگی بسر کر رہے ہیں۔ شہیم اب سول انجینئر ہے جب یازمہ بی اے کرچکی ہے، اس دور ان اس نے عالمہ کا کورس بھی کیا۔ وہ ایک بہ ہمت اور بولڈ لڑکی ہے، حالات کا مقابلہ کرنا اچھی طرح جانتی ہے، اس کے چھوٹے قد نے اس کے لیے کچھ مشکلات ضرور پیدا کیں لیکن ان مشکلات کا اس نے حوصلے اور ہمت سے مقابلہ کیا۔ بے باک، نڈر اور صاف گو ہے اس کی اس عادت کو بعض لوگ پسند بھی نہیں کرتے لیکن اس نے بڑوں کی تکریم میں کبھی کوتاہی نہیں آنے دیتی۔ بزرگوں کا حد درجہ احترام کرتی ہے، چھوٹا کا خیال رکھتی ہے۔ اس کم عمری میں گھر کا بوجھ اٹھانا معمولی بات نہیں ، یہ کم عمری میں وہ تمام کام بھی کرتی ہے جو بڑی بوڑھی عورتوں کے کرنے کے ہوتے ہیں، اس لیے کہ یہ اس کی مجبوری بھی ہے۔ یہ وہ کام بھی کرتی ہے جو مردوں کے کرنے کے ہوتے ہیں، اس خاندان پر مشکلات اور غم کے پہاڑ ٹوٹے لیکن اﷲ نے ثابت قدم رکھا اب یہ گھر رفتہ رفتہ اپنی منزل کی جانب گامزن ہے امید ہے بہت جلد دونوں بہن بھائیوں کی زندگی میں پھر سے بہار آئے گی،موسم خوش گوار ہوگا، خوشیاں آئیں گی لیکن انعام اختر بھوجانی اور روبینہ اختر فرید کی کمی سب سے زیادہ ان کی اولاد ہی کو ہوگی۔اﷲ انہیں صبر جمیل عطا کرے۔ اتفاق یہ کہ جب میرے اس دوست کا سانحہ ٔ ارتحال ہوا تو میں سعودی عرب میں تھا۔

Comments are closed.

Open

%d bloggers like this: